تبرکات حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ
اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ نماز یقیناً بری اور ناپسندیدہ باتوں سے لوگوں کو روکتی ہے۔ ان بری باتوں سے بھی جو انسان کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں اور ان سے بھی جو سوسائٹی پر گراں گزرتی ہیں۔ کیونکہ نماز باجماعت مسلمانوں میں پانچ وقت کی مقرر ہے۔ اگر نماز باجماعت ان میں قائم ہوجائے گی تو ان کا بہت سا وقت خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگ جائے گا۔ اور نماز میں خرچ ہونے والا وقت ان کو بے حیائیوں اور بدکاریوں سے بچاتا رہے گا۔ اسی طرح نماز میں جب دعائیں ہوتی رہیں گی۔ اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی تو وہ دعائیں خدا تعالیٰ کا فضل کھینچ کر ان کی اپنی اصلاح کا بھی موجب ہوں گی۔ اور دوسروں کی اصلاح اور ترقی کا موجب بھی بن جائیں گی۔ اسی طرح نماز میں جو قرآن کریم کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور تسبیح و تحمید کی کثرت ہوتی ہے اس کا دل پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ انسان گناہوں سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔
غرض اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِکے معاً بعد اَقِمِ الصَّلٰوةَ اور اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ کا ذکر فرما کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ بغیر دعاؤں کے پاکیزگی حاصل نہیں ہو سکتی۔ تلاوت قرآن سے تم دنیا کے خیالات بے شک تبدیل کر سکتے ہو۔ لیکن دنیا میں پاکیزگی بغیر فضلِ الٰہی کے نہیں ہو سکتی اور یہ فضل دعاؤں سے ہی حاصل ہو گا۔ پس نمازیں پڑھو اور دعائیں مانگو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے تمہیں کھڑا کیا ہے اس میں تمہیں کامیابی حاصل ہو۔ ( تفسیر کبیر جلد 10صفحہ 412)
الحمد للہ سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بخیروعافیت ہیں۔ سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ2؍ااکتوبر2026کو مسجد مبارک(اسلام آباد)یو.کے سے بصیرت افروز خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جس کا خلاصہ اسی شمارہ کے صفحہ نمبر 20 پر ملاحظہ فرمائیں۔احباب کرام حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحت و تندرستی، فعال درازیٔ عمر، مقاصد عالیہ میں کامیابی اور خصوصی حفاظت کیلئے دُعائیں جاری رکھیں، اللہ تعالیٰ حضور انور کا ہر آن حافظ و ناصر ہو اور تائید و نصرت فرمائے۔ آمین ۔