اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-27

مکرم اجیت محمد صاحب معلم سلسلہ کا ذکر خیر

مکرم اجیت محمد صاحب معلم سلسلہ ولد مکرم جلال دین صاحب مورخہ 9؍جنوری کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے وفات پاگئے (اناللہ وانا الیہ راجعون)۔مرحوم واقف زندگی اور موصی تھے بہشتی مقبرہ قادیان میں انکی تدفین عمل میں آئی۔موصوف کو 25سال بطور معلم سلسلہ صوبہ پنجاب،ہماچل اور ہریانہ میں خدمت کی توفیق ملی،بوقت وفات انکی عمر 58سال تھی۔ مکرم اجیت محمد صاحب نے 1995ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی مرحوم صوبہ ہماچل پردیش میں قائم ہونے والی پہلی جماعت ڈنگوہ کے مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ جس وقت خاکسار ڈنگوہ میں تبلیغ کر رہا تھا تو کوئی شخص بیعت کے لئے تیار نہیں ہور ہا تھا لیکن اجیت محمد صاحب اور انکے والد نے کہا کہ امام مہدی کو ماننا ہے تو اس سے بڑھ کر نیکی اور کیا ہوسکتی ہے،آپ ہماری بیعت کروائیں۔ چنانچہ ڈنگوہ میں سب سے پہلے دونوں باپ بیٹے کو بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ پارٹیشن کے بعد مرحوم نہ صرف ڈنگوہ بلکہ صوبہ ہماچل کے پہلے احمدی تھے۔ خاکسارتنویر احمد خادم کو چونکہ بطور نگران صوبہ ہماچل 1994 ء سے ہی ہماچل میں خدمت کی توفیق ملی اس لئے خاکسار اچھی طرح جانتا ہے کہ موصوف نے اپنی ساری زندگی بہت ہی اخلاص اور جذبے سے خدمت کی توفیق پائی ۔ مرحوم بڑے ایمان دار ، نڈر ، غریب پرور ، مہمان نواز اور خلافت سے بہت محبت رکھنے والے دُعا گو فدائی احمدی تھے۔

جس وقت ڈنگوہ میں جماعت قائم ہوئی اس وقت ڈنگوہ میں کوئی مسجد و مشن نہیں تھا۔ اس لئے مہمانوں کے ٹھہرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ موصوف نے اپنا گھر مبلغ / معلم اور مہمانوں کے ٹھہرنے کیلئے وقف کیا۔ چنانچہ سالہا سال مبلغین و معلمین کی نیزمرکزاور جماعتوں سے آنے والے مہمان بھی انہیں کے گھر میں قیام کرتے تھے ، اس طرح موصوف نے نہ صرف مبلغین /معلمین کرام اور مہمانوں کےقیام کا انتظام کیا بلکہ تواضع وغیرہ کا انتظام بھی اپنے پاس سے کیا۔ شروع شروع میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ مسلمانوں کے بھڑکانے کی وجہ سے علاقہ کے ہندوؤں کی طرف سے بھی جماعت کی شدید مخالفت تھی۔ راستے سے آنے جانے سے بھی نہ صرف روکتے بلکہ کئی مرتبہ احمدیوں کا تعاقب کرتے، بلکہ ایک دو مرتبہ بعض احمد یوں کو مار مار کر بری طرح زخمی بھی کیا۔ اس دور میں مکرم مولوی نذیر احمدمبشر صاحب مرحوم ڈنگوہ میں مبلغ تھے ، مرحوم مبلغ صاحب کو جنگل کے راستے شہر میں لے کر جاتے تا کہ وہ فون کر کے مرکز کو وہاں کے حالات بتا ئیں ۔جس جماعت میں بھی مخالفت ہوئی مکرم اجیت محمد صاحب مبلغین اور خاکسار کے ساتھ بڑی دلیری سے وہاں گئے اور مخالفین کو سمجھا کر ٹھنڈا کیا۔

ایک مرتبہ خاکسار اور مکرم اجیت محمد صاحب مکرم نذیر مبشر صاحب مرحوم سابق مبلغ انچارج ہماچل پردیش اور مکرم رفیق احمد صاحب مربی دفتر صدرعمومی قادیان، ہماچل کی ایک نئی جماعت بڈھیارمیں تبلیغ کی غرض سے گئے جہاں احمدیوں کے صرف تین چار گھر تھے اور سینکڑوں گھر غیر احمدیوں کے تھے وہ منڈی ضلع کا پہاڑی علاقہ ہے۔صرف ایک راستہ جانے اور وہی راستہ واپس آنے کا تھا۔ مخالفین نے راستہ بند کر کےہم سب کو گھیر لیا۔ جس گھر میں ہم سب تھے اُس پر پتھراؤ شروع کر دیامکرم غلام محمدصاحب صدر جماعت بڈھیار اور لوکل احمدی افراد نے کہا کہ آپ یہاں سے جنگلوں کے راستہ نکل جائیںکیونکہ انکی نیت اچھی نہیں ہے۔انہوں نے مسجد میں پتھر اکٹھے کر لئے ہیں۔چونکہ اجیت محمد صاحب ہماچل کے تھے۔ موصوف نے بڑی بہادری سے ہم سب کوگھر کے پچھلی طرف سے پہاڑوں اور جنگلوں کے علاقہ سے پیدل کئی میل کا سفر کر کے نکالا۔ موصوف راستے میں ہم سب کی مدد بھی کرتے رہے بلکہ حوصلہ بھی بڑھاتے رہےکہ کوئی نہیں تھوڑا اور چلیں کہیں نہ کہیں سڑک مل جائے گی۔ بہر حال جہاں بھی مخالفت ہوتی بڑی دلیری سے وہاں جاتے اور مخالفین کا سامنا کرتے۔

ایک مرتبہ ڈنگوہ کے راستہ میں مخالفین نے قادیان سے آنے والے تین چار واقفین عارضی کو پکڑ کر باندھ لیا اور مار پیٹ کرنے لگے خاکسار بھی اُس وقت ڈنگوہ کی جماعت میں موجود تھا۔ مکرم اجیت محمد صاحب نے خاکسار اور لوکل مبلغ مکرم نذیر مبشر صاحب مرحوم سے کہا کہ آپ لوگ نہ جائیں یہ مخالفین آپ کو دیکھ کر اور بھڑکیں گے اور خود دو تین لوکل احمدی نوجوانوںکو لیکر بڑی تیزی کے ساتھ گئے اور مخالفین کے چنگل سے ہمارے واقفین کو چھٹرواکر لائے۔

اسی طرح ایک مرتبہ ڈنگوہ کی جماعت کے ایک احمدی دوست مکرم محمددین عرف کوڑادین صاحب جن کا گھر غیر احمدیوں کے گھروںکےدرمیان تھا۔ ان پر رات 11 بجے کے قریب حملہ کر دیا ، او پر احمدی محلہ میںجو پہاڑ پر تھا۔ محمد دین صاحب اور ان کے بچوں کے چیخنے اور چلانے کی آواز یں آئیں تو معلوم ہوا کہ محمد دین صاحب عرف کوڑادین پر غیر احمدیوں نے حملہ کر دیا ہے۔اس وقت خاکسار بھی ڈنگوہ میں موجود تھا۔ مکرم اجیت محمد صاحب ہم لوگوں کے ساتھ اُس مقام پر گئے اور مخالفین کے چنگل سے مکرم محمددین صاحب کو نکال کر باہرلائے۔ محمددین صاحب بے ہوش اور خون سے لت پت تھے۔مرحوم کو ہسپتال داخل کروانے اور مخالفین کے خلاف پولیس کاروائی کرنے میں ہمارا بھر پور تعاون کیا اورہر کام میں پیش پیش رہے۔

شروع شروع میں ہماچل پردیش میں جماعت رجسٹرڈ نہیں تھی ، مساجد و مشن ہاؤسز کیلئے جو بھی زمین خریدنی ہوتی وہ کسی لوکل فرد جماعت کے نام پر خریدی جاسکتی تھیں ۔ چنانچہ مولوی محمد نذیرصاحب مبشر مرحوم اور خاکسار نےمحترم ناظر صاحب اعلیٰ قادیان کی خدمت میں مکرم اجیت محمد صاحب کا نام تجویز کیاکہ مکرم اجیت محمد صاحب مناسب ہیں ، ایمان دار ہیں ، ان کے نام جماعت کی زمینیں خریدی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ ہماچل پردیش کی سبھی زمینیں مرحوم کے نام خریدی گئیں اور موصوف نے بعد میں جب ہماچل میں جماعت احمد یہ رجسٹرڈ ہوگئی تو بڑی ایمان داری سےسبھی زمینیں صدر انجمن احمد یہ کے نام کر دیں ۔بلکہ جماعت کو رجسٹرڈ کروانے میں بھی ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔

مرحوم کو ہماچل میں درجنوں احمدیوں کے رشتے ہندوستان کی پرانی جماعتوں میں کروانے کی توفیق ملی تاکہ یہ نئے احمدی بھی رشتوں کی وجہ سے مضبوط ہو جا ئیں۔ رشتے کروانے کیلئے موصوف نے اڈیشہ، بہار اور بنگال وغیرہ صوبہ جات کا کئی مرتبہ سفر کیا۔

مرحوم کوایک درجن سے زائد نوجوانوں کو جامعہ احمدیہ وجامعۃ المبشرین قا دیان میں تحریک کر کے بھجوانے کی توفیق ملی اور اللہ کے فضل سے ان میں سے اکثر اس وقت سلسلے کی خدمت بجالا رہے ہیں۔(الحمدلله)۔

ہماچل میں جہاں بھی مساجد تعمیر ہوئیں وہاں پر اس علاقے کے غیر مسلموںاور مسلمانوں کی طرف سے کافی مخالفت ہوئی مرحوم کو بعض مبلغین کے ساتھ ہر اس مقام پر بھجوایا جاتا جہاں مخالفت ہوتی تو مرحوم بڑی دلیری سے مبلغین کے ساتھ کھڑے رہتے اور حکمت کے ساتھ ہر جگہ مسجد تعمیر کروائیں اور مخالفین کا مقابلہ کیا۔

شروع شروع میں جب ہما چل میں تبلیغ شروع ہوئی تو مرحوم ہر جگہ ہمارے ساتھ رہے۔ اس موقعہ پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہماچل پردیش میں جتنی بھی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان سبھی کو قائم کرنے بلکہ اُن کو سنبھالنےاور تربیت کرنے میں مکرم اجیت محمد صاحب مرحوم کا بڑا عمل دخل اورتعاون ہے۔

حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 7؍فروری2026ءکو مرحوم کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میںاعلیٰ مقام عطا کرے اور اُن کے بچوں کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے نیز بچوں میں بھی اُن کی نیکیاں پیدا فرمائے۔ مرحوم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔ ماشاء اللہ تینوں مخلص احمدی ہیں ۔