میرے والد محترم محمد سیف خان صاحب مرحوم کا ذکر خیر
(مکرم محمد کلیم خان صاحب مربی سلسلہ قادیان)
میرے والد محترم محمد سیف خان صاحب مرحوم کی پیدائش 1936 میں موضع سمور ضلع فتحپور میں ہوئی۔ دادا جان محمد طیف خان صاحب بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور فارسی، اردو، عربی پر عبور حاصل تھا۔ والد صاحب مرحوم بھی ابتدا میں دیوبندی ہو گئے اور مسجد کے صدر بنا دیے گئے۔ 1962 میں فتحپور بازار میں فٹ پاتھ پر ایک بزرگ سے جماعت احمدیہ کی کتاب’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ حاصل کر کے مطالعہ کیا اور بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔ جن بزرگ کے ذریعہ آپ نے بیعت کی تھی ان کا نام مکرم فتح محمد اسلم صاحب درویش تھا۔ بیعت فارم پر کر کے حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی کی خدمت میں بھجوایا گیا۔
بیعت کے بعد گاؤں میں مخالفت شروع ہو گئی اور والد صاحب کا حقہ پانی بند کر دیا گیا، مگر آپ نے گھر میں نمازوں کا آغاز کر دیا۔ سب سے پہلے والدہ مرحومہ اور تین چچاؤں نے بیعت کی اور جماعتی نظام قائم ہوا۔ مرکزی نمائندگان کی آمد شروع ہوئی۔ ایک واقعہ میں مخالفین نے محترم منظور احمد صاحب گجراتی کا بیگ مسجد سے باہر پھینک دیا جس پر گاؤں میں معاہدہ ہوا کہ باہر سے آنے والے مہمان کی بے عزتی نہ کی جائے۔
والد صاحب کے بچپن کے دوستوں محترم وزیر محمد صاحب، محترم مخدوم حسین صاحب، محترم رشید خان صاحب محترم ظہور خاں صاحب اور سرفراز خان صاحب نے بھی بیعت کی۔ 1983 میں دوبارہ مخالفت ہوئی مگر مرکزی وفد کی ملاقاتوں سے حالات بہتر ہو گئے۔
1987 میں آریہ سماجیوں کے ایک سمیلن میں محترم والد صاحب مرحوم کی دعوت پر مرکز سے محترم مولانا ظہیر احمد صاحب خادم اور مولانا تنویر احمد صاحب خادم تشریف لائے۔ مولانا ظہیر احمد صاحب خادم کی جرات مندانہ گفتگو سے سمیلن میں ہنگامہ ہوا اور وہ لوگ پروگرام ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔
والد صاحب مرحوم تبلیغ احمدیت کے دلدادہ تھے۔ قادیان سے ڈھیروں کتب لے جاتے اور زیر تبلیغ لوگوں میں تقسیم کرتے۔ اپنے مقدمات کےسلسلے میں فتحپور شہر میں وکلاء اور افسران کو بھی کتب دیتے جس سے اچھا اثر قائم
ہوا۔ بہوا میں ایک نائی کی دکان پر تبلیغ کے نتیجے میں مکرم مبارک احمد صاحب نے بیعت کی ، پھر بہوا اور دھن سنگھ پور میں جماعت قائم ہوئی۔
احمد ی ہونے کے بعد والد صاحب نے ایک خواب دیکھا کہ گاؤں سمور اور قادیان قریب ہو گئے ہیں۔ بعد میں آپ کےدوبیٹے محترم محمد نسیم خان صاحب اور محترم محمد و سیم خان صاحب قادیان میں مقیم ہوئے اور خاکسار کی شادی بھی ۔ قادیان میں ہوئی، یوں خواب کی تعبیر پوری ہوئی۔ والد صاحب کو مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور حضرت مسیح موعود کی کتب ہمیشہ زیر مطالعہ رہتیں۔ فارسی واردو اشعار بھی از بر تھے۔
والد صاحب نے اپنے تینوں بیٹوں کو واقف زندگی بنا کر مولوی فاضل کروایا۔ گاؤں سمور کے کئی دیگر افراد بھی دینی تعلیم حاصل کر کے جماعتی خدمات میں شامل ہوئے۔ والد صاحب تاحیات صدر جماعت احمد یہ سمور اور بعد میں ضلع امیر فتحپور رہے۔
جب والد صاحب کو قادیان لانے لگے تو گاؤں کا پر دھان اور نصف گاؤں جمع ہو گیا اور سب نے ان کی محبت کا ظہار کیا۔ 29 دسمبر 2020 کو قادیان دارالامان میں والد کی وفات ہوئی۔ بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی نے نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ والد صاحب کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور ہم تینوں بھائیوں کو ان کی نیکیوں پر قائم رکھے۔ آمین۔